کم سنی کی شادی۔
قرآن کریم کا واضح حکم ہے۔ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءُ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ الله لَكُمْ قِيمًا (4-5)
اور نا سمجھ لوگوں کو تم ان کا مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہارے لئے سہارا بنایا ہے .
اگلی آیت ملاحظہ وَ ابْتَلُوا الْيَتَمَى حَتَّى إِذَا بلغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ أَنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ (4-8)
اور تیموں کا امتحان لیتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے عمر کو پہنچ جائیں جب اگر تم ان میں عقل کی پختگی پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔
یعنی ان میں سوجھ بوجھ پیدا ہو جائے جب اس آیہ کریمہ کی رو سے اللہ نے نکاح کی عمر بلوغت کے ساتھ مشروط کر دی اور بلوغت کی وضاحت یہ بتائی کہ جب لڑکا یا لڑ کی سماجی معاملات کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔ اب لللہ بتائیے کہ6 سال یا 9 سال کی بچی یا بچہ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان سے کوئی معاملہ طے کیا جائے ؟
انہیں تو ماں باپ سو دالانے کے لئے سو روپیہ کا نوٹ بھی نہیں دیتے کہ راستے میں کہیں گرادیں گے،
یا دکا ندار کم پیسے دے گا اور یہ لے کر چلے آئیں گے۔ یا کوئی چھین لے گا۔ اللہ تعالی تو نبوت بھی بالغ ہونے کے بعد ہی عطا کرتا تھا۔ یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَا حُكْمًا و عِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (22-12) اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا، نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔
حضرت موسی کے بارے میں فرمایا۔
وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ اسْتَوَى آتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَ كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (14-28)
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا، نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں ۔
قارئین ایک جگہ تو یوں لگتا ہے کہ رب نے بلوغت کی عمر چالیس سال رکھی ہے۔
فرمایا اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی کے ساتھ جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا اڑھائی برس میں ہوتا ہے۔
إِذَا بَلَغَ أَشُدَهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سنة (15-46)
یہاں تک کہ وہ خوب جوان ہو کر چالیس سال کو پہنچ جاتا ہے۔ قوامیس میں بالغ کا ترجمہ Mature اور بلوغت کے لئے Maturity لکھا ہے کہیں Adult کہیں Major of age لکھا ہے۔ چھ یانو سال کی عمر کہی نہیں لکھی ہے۔
بقول راوی عروہ نے اپنے والد سے سنا کہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں ۔ کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح (6) برس کی عمر میں ہوا۔ و ادخلت عليه و هي تسع - اور دخول صحبت (9) برس کی عمر میں ہوا۔
یہ بات ماخذات کی تمام کتابوں میں درج ہے۔
اس کے راوی ہشام بن عروہ یا ابن شہاب زہری کو بتایا جاتا ہے۔ جو تحقیق سے ثابت ہے کہ وہ مجوسی ہے۔ یہ وہی زہری ہے جس نے اسلام میں زہر گھول دیا۔
( بخاری جلد سوم کتاب النکاح باب 68 حدیث نمبر 120 مکتبہ رحمانیہ لاہور )
میرے نزدیک (النسا - 5 ) میں درس عبرت ہے کہ جب تک معاملہ کی سدھ بدھ نہ ہو کسی کو فریق نہ بنایا جائے اور نکاح تو کہتے ہیں عقد کو ہیں یعنی فرقین کے درمیان (Contract) کیا بالغ اور نا بالغ کے درمیان کسی قسم کا کنٹریکٹ یا اگریمنٹ ہو سکتا ہے؟
اور اسے دنیا کی کوئی بھی عدالت درست اور صحیح تسلیم کرے گی؟
زوج عربی میں جوڑے کو کہتے ہیں، جیسے دو پاؤں کے جوتے جو ایک دوسرے کی تکمیل کا موجب بنتے ہیں۔ (One of a pair) باہم دیگر ہم رنگ اور ہم آہنگ انسانی
جوڑے خواہ وہ میاں بیوی کی صورت میں ہوں یا عام رفقاء کی صورت میں اس سے مراد ہے ایک دوسرے کے رفیق ایک دوسرے کے بغیر نامکمل، ایک طرف چار دوسری طرف ایک یہ بھی جوڑا نہ ہوا اور اگر ایک مرد کامل اور اس کے ساتھ بچی سات آٹھ سال کی ہو تو یہ بھی جوڑا نہ ہوا -5- اور 9 سال کی عمر میں شادی طبائع بشری اور اصول مقاربت کے منافی ہے۔
اس عمر کا بچہ نہ سیکس سے آگاہ ہوتا ہے اور نہ ہی سیکسی خواہشات کا متحمل۔ بلکہ اس کے لئے تو صحبت اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان جذب و کشش کی تحریک اس وقت ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے جب طالب و مطلوب اپنے عمل کے ثمر سے آگاہ ہوں۔
اسی وجہ سے قرآن کریم نے نابالغی کے نکاح کو ثمر آور نہیں ٹھہرایا ۔
طالب کو پتہ ہے کہ ایجاب و قبول کیا ہے، مگر مطلوب اپنی کم سنی کیوجہ سے نہ ایجاب سے آگاہ ہوتا ہے نہ قبول سے۔
یہ اصول بشریت اور قرآن کریم کے خلاف ہے یہ کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرہی نہیں سکتے تھے۔ یہ شوشہ رئیس المحد ثین امام محمد بن شہاب زہری (۷۴۲م) کا ہے جنہیں غلط بیانی پرکئی بار وارنگ بھی مل چکی تھی۔ مگر اس کی غلط بیانی کام کرگئی۔
حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عائشہ صدیقہ کی عمر بوقت شادی 18 سال تھی۔ قرآن کریم نے نکاح کو میثَاقًا غَلِيظًا (421) یعنی پخته ترین، گاڑھا ،ریز معاہدہ کہہ کر پکارا ہے اور یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ مرد اور عورت کے مابین جنسی تعلق ممکن ہونا چاہئے ۔
اس وجہ سے قرآن نے اس امر پر بہت زور دیا ہے کہ معاہدہ نکاح سے پیشتر ہیں اس معاہدے کے فریق مرد اور عورت ایک دوسرے سے ہم آہنگی کو اچھی طرح سمجھ بوجھ لیں۔ مردوں کو حکم دیا گیا کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک نہ بن جاياکرے يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا (419) اے ایمان کے دھویدا رو ا حلال نہیں تم پر وہ عورتیں جو تم سے کراہت کرتی ہوں۔
زہری کے بہتان نے تین کام کئے
(1) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو انعدار کیا کہ وہ بشریت کے کسی قاعدہ قانون کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔
(2) نابالغ لڑکی سے شادی کر کے قرآن کے حکم کو پامال کیا۔
(3) اور زہری نے اپنے لئے اور عیاشوں کے لئے کم سن بچیوں تک پہچنے راہ ہموار کی۔
کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ مرغی سے زیادہ چوزوں میں طاقت ہوتی ہے جب (6) سال کی معصوم بچی کے ساتھ نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر لیا تو اس طرح یہ عمل امت کے لئے سنت رسول قرار پایا۔
امام ابن قیم فرماتے ہیں کنواری لڑکی کے ساتھ جماع کرنے میں فائدہ ہے۔ عورت خوبصورت نہ ہو تو شوہر کے جسمانی قوئی کمزور ہو جاتے ہیں۔
امام ابن قیم المحدث زاد المعاد طب نبوی صفحه 479)
جب چھ سال کی معصوم بچی کے ساتھ حضور کو منسوب کر دیا تو اس طرح یہ عمل سنت قرار پایا، اگر اس سنت پر کوئی عمل کرے تو قانون کے مطابق پکڑا جائے اور اس کے خلاف لب کشائی پر کفر اور انکار حدیث کے فتوے لگ سکتے ہیں اور لگتے ہیں۔
حالانکہ جو مولوی عا ئشہ صدیقہ کی عمر بوقت رخصتی 6- 9بتاتا ہے، اگر اس سے اس کی6 سالہ بیٹی کا ہاتھ مانگا جائے تو وہ چھوٹتے ہی کہے گا تم کافر ہو گئے ہو ابھی تو وہ معصوم بچی ہے۔
۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کریم کا اتباع نہیں کرتے تھے کہ نا بالغ لڑکی سے شادی کر بیٹھے؟ ۔
حالانکہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحی (6۔50) میں کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا سوائے اس کے جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ پھر اللہ نے خود شہادت دی ہے۔ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى ... (18-10) یہ کس قسم کی اتباع تھی کہ نکاح کے لئے رب کا حکم بلوغت ہے اور اس کا پیغمبر اس حکم کو ( معاذ اللہ) پامال کر کے نابالغ لڑکی سے نکاح کر لیتے ہیں؟ یارو یہ بہتان عظیم ہے،
نہ تو یہ ممکن ہے، نہ ایسا ہوا مگر ہماری کتب میں یہ واقعہ موجود ہے، اور اس کو سچ ماننے کی تلقین کی جاتی ہے۔
اس کے منکر پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔
کیا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تقریبا اپنے ہم عمر دوست کو اپنی معصوم بچی جو گڑیوں سے کھیلتی تھی دینے پر رضا مند ہو جاتے ؟
یہ مجوسی افسانہ ہے۔

No comments:
Post a Comment