دعوت قرآن
اقامت دین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے ماننے والوں کو کوئی سیاسی اقتدار قائم کرنا ہے نہیں ! انسان کو دین اپنی زندگی میں قائم کرنا ہے ، اگر وہ فرد ہے ، تو فرد کی حثیت سے ، اگر وہ قوم ہے ، تو قوم کی حیثیت سے ، اگر وہ غریب ہے ، تو غریب کی حثیت سے ، اگر وہ مالدار ہے ، تو مالدار کی حیثیت سے ، اگر وہ غلام ہے ، تو غلام کی حیثیت سے ، اگر وہ حاکم ہے ، تو حاکم کی حیثیت سے ۔۔۔۔ خواہ انسان جس حیثیت سے بھی دنیا میں جی رہا ہے اگر وہ دین اسلام کو مانتا ہے تو اس کا تقاضہ یہ ہے کہ جس حیثیت میں بھی ہوں اپنی زندگی میں دین قائم کرے یعنی دین کا پابند ہوجائے ۔

No comments:
Post a Comment