Saturday, February 24, 2024
#Kisan
Friday, February 16, 2024
کم سنی کی شادی,
کم سنی کی شادی۔
قرآن کریم کا واضح حکم ہے۔ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءُ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ الله لَكُمْ قِيمًا (4-5)
اور نا سمجھ لوگوں کو تم ان کا مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہارے لئے سہارا بنایا ہے .
اگلی آیت ملاحظہ وَ ابْتَلُوا الْيَتَمَى حَتَّى إِذَا بلغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ أَنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ (4-8)
اور تیموں کا امتحان لیتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے عمر کو پہنچ جائیں جب اگر تم ان میں عقل کی پختگی پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔
یعنی ان میں سوجھ بوجھ پیدا ہو جائے جب اس آیہ کریمہ کی رو سے اللہ نے نکاح کی عمر بلوغت کے ساتھ مشروط کر دی اور بلوغت کی وضاحت یہ بتائی کہ جب لڑکا یا لڑ کی سماجی معاملات کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔ اب لللہ بتائیے کہ6 سال یا 9 سال کی بچی یا بچہ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان سے کوئی معاملہ طے کیا جائے ؟
انہیں تو ماں باپ سو دالانے کے لئے سو روپیہ کا نوٹ بھی نہیں دیتے کہ راستے میں کہیں گرادیں گے،
یا دکا ندار کم پیسے دے گا اور یہ لے کر چلے آئیں گے۔ یا کوئی چھین لے گا۔ اللہ تعالی تو نبوت بھی بالغ ہونے کے بعد ہی عطا کرتا تھا۔ یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَا حُكْمًا و عِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (22-12) اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا، نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔
حضرت موسی کے بارے میں فرمایا۔
وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ اسْتَوَى آتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَ كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (14-28)
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا، نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں ۔
قارئین ایک جگہ تو یوں لگتا ہے کہ رب نے بلوغت کی عمر چالیس سال رکھی ہے۔
فرمایا اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی کے ساتھ جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا اڑھائی برس میں ہوتا ہے۔
إِذَا بَلَغَ أَشُدَهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سنة (15-46)
یہاں تک کہ وہ خوب جوان ہو کر چالیس سال کو پہنچ جاتا ہے۔ قوامیس میں بالغ کا ترجمہ Mature اور بلوغت کے لئے Maturity لکھا ہے کہیں Adult کہیں Major of age لکھا ہے۔ چھ یانو سال کی عمر کہی نہیں لکھی ہے۔
بقول راوی عروہ نے اپنے والد سے سنا کہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں ۔ کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح (6) برس کی عمر میں ہوا۔ و ادخلت عليه و هي تسع - اور دخول صحبت (9) برس کی عمر میں ہوا۔
یہ بات ماخذات کی تمام کتابوں میں درج ہے۔
اس کے راوی ہشام بن عروہ یا ابن شہاب زہری کو بتایا جاتا ہے۔ جو تحقیق سے ثابت ہے کہ وہ مجوسی ہے۔ یہ وہی زہری ہے جس نے اسلام میں زہر گھول دیا۔
( بخاری جلد سوم کتاب النکاح باب 68 حدیث نمبر 120 مکتبہ رحمانیہ لاہور )
میرے نزدیک (النسا - 5 ) میں درس عبرت ہے کہ جب تک معاملہ کی سدھ بدھ نہ ہو کسی کو فریق نہ بنایا جائے اور نکاح تو کہتے ہیں عقد کو ہیں یعنی فرقین کے درمیان (Contract) کیا بالغ اور نا بالغ کے درمیان کسی قسم کا کنٹریکٹ یا اگریمنٹ ہو سکتا ہے؟
اور اسے دنیا کی کوئی بھی عدالت درست اور صحیح تسلیم کرے گی؟
زوج عربی میں جوڑے کو کہتے ہیں، جیسے دو پاؤں کے جوتے جو ایک دوسرے کی تکمیل کا موجب بنتے ہیں۔ (One of a pair) باہم دیگر ہم رنگ اور ہم آہنگ انسانی
جوڑے خواہ وہ میاں بیوی کی صورت میں ہوں یا عام رفقاء کی صورت میں اس سے مراد ہے ایک دوسرے کے رفیق ایک دوسرے کے بغیر نامکمل، ایک طرف چار دوسری طرف ایک یہ بھی جوڑا نہ ہوا اور اگر ایک مرد کامل اور اس کے ساتھ بچی سات آٹھ سال کی ہو تو یہ بھی جوڑا نہ ہوا -5- اور 9 سال کی عمر میں شادی طبائع بشری اور اصول مقاربت کے منافی ہے۔
اس عمر کا بچہ نہ سیکس سے آگاہ ہوتا ہے اور نہ ہی سیکسی خواہشات کا متحمل۔ بلکہ اس کے لئے تو صحبت اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان جذب و کشش کی تحریک اس وقت ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے جب طالب و مطلوب اپنے عمل کے ثمر سے آگاہ ہوں۔
اسی وجہ سے قرآن کریم نے نابالغی کے نکاح کو ثمر آور نہیں ٹھہرایا ۔
طالب کو پتہ ہے کہ ایجاب و قبول کیا ہے، مگر مطلوب اپنی کم سنی کیوجہ سے نہ ایجاب سے آگاہ ہوتا ہے نہ قبول سے۔
یہ اصول بشریت اور قرآن کریم کے خلاف ہے یہ کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرہی نہیں سکتے تھے۔ یہ شوشہ رئیس المحد ثین امام محمد بن شہاب زہری (۷۴۲م) کا ہے جنہیں غلط بیانی پرکئی بار وارنگ بھی مل چکی تھی۔ مگر اس کی غلط بیانی کام کرگئی۔
حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عائشہ صدیقہ کی عمر بوقت شادی 18 سال تھی۔ قرآن کریم نے نکاح کو میثَاقًا غَلِيظًا (421) یعنی پخته ترین، گاڑھا ،ریز معاہدہ کہہ کر پکارا ہے اور یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ مرد اور عورت کے مابین جنسی تعلق ممکن ہونا چاہئے ۔
اس وجہ سے قرآن نے اس امر پر بہت زور دیا ہے کہ معاہدہ نکاح سے پیشتر ہیں اس معاہدے کے فریق مرد اور عورت ایک دوسرے سے ہم آہنگی کو اچھی طرح سمجھ بوجھ لیں۔ مردوں کو حکم دیا گیا کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک نہ بن جاياکرے يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا (419) اے ایمان کے دھویدا رو ا حلال نہیں تم پر وہ عورتیں جو تم سے کراہت کرتی ہوں۔
زہری کے بہتان نے تین کام کئے
(1) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو انعدار کیا کہ وہ بشریت کے کسی قاعدہ قانون کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔
(2) نابالغ لڑکی سے شادی کر کے قرآن کے حکم کو پامال کیا۔
(3) اور زہری نے اپنے لئے اور عیاشوں کے لئے کم سن بچیوں تک پہچنے راہ ہموار کی۔
کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ مرغی سے زیادہ چوزوں میں طاقت ہوتی ہے جب (6) سال کی معصوم بچی کے ساتھ نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر لیا تو اس طرح یہ عمل امت کے لئے سنت رسول قرار پایا۔
امام ابن قیم فرماتے ہیں کنواری لڑکی کے ساتھ جماع کرنے میں فائدہ ہے۔ عورت خوبصورت نہ ہو تو شوہر کے جسمانی قوئی کمزور ہو جاتے ہیں۔
امام ابن قیم المحدث زاد المعاد طب نبوی صفحه 479)
جب چھ سال کی معصوم بچی کے ساتھ حضور کو منسوب کر دیا تو اس طرح یہ عمل سنت قرار پایا، اگر اس سنت پر کوئی عمل کرے تو قانون کے مطابق پکڑا جائے اور اس کے خلاف لب کشائی پر کفر اور انکار حدیث کے فتوے لگ سکتے ہیں اور لگتے ہیں۔
حالانکہ جو مولوی عا ئشہ صدیقہ کی عمر بوقت رخصتی 6- 9بتاتا ہے، اگر اس سے اس کی6 سالہ بیٹی کا ہاتھ مانگا جائے تو وہ چھوٹتے ہی کہے گا تم کافر ہو گئے ہو ابھی تو وہ معصوم بچی ہے۔
۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کریم کا اتباع نہیں کرتے تھے کہ نا بالغ لڑکی سے شادی کر بیٹھے؟ ۔
حالانکہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحی (6۔50) میں کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا سوائے اس کے جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ پھر اللہ نے خود شہادت دی ہے۔ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى ... (18-10) یہ کس قسم کی اتباع تھی کہ نکاح کے لئے رب کا حکم بلوغت ہے اور اس کا پیغمبر اس حکم کو ( معاذ اللہ) پامال کر کے نابالغ لڑکی سے نکاح کر لیتے ہیں؟ یارو یہ بہتان عظیم ہے،
نہ تو یہ ممکن ہے، نہ ایسا ہوا مگر ہماری کتب میں یہ واقعہ موجود ہے، اور اس کو سچ ماننے کی تلقین کی جاتی ہے۔
اس کے منکر پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔
کیا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تقریبا اپنے ہم عمر دوست کو اپنی معصوم بچی جو گڑیوں سے کھیلتی تھی دینے پر رضا مند ہو جاتے ؟
یہ مجوسی افسانہ ہے۔
Wednesday, February 14, 2024
ISLAM AND HINDU SCRIPTURES
𝐖𝐡𝐚𝐭 𝐡𝐢𝐧𝐝𝐮 𝐭𝐞𝐱𝐭𝐬 𝐬𝐚𝐲 𝐚𝐛𝐨𝐮𝐭...
- 𝐓𝐚𝐰𝐡𝐞𝐞𝐝 (𝐌𝐨𝐧𝐨𝐭𝐡𝐞𝐢𝐬𝐦) - 𝐈𝐝𝐨𝐥 𝐰𝐨𝐫𝐬𝐡𝐢𝐩 - 𝐏𝐫𝐨𝐩𝐡𝐞𝐭 𝐀𝐝𝐚𝐦 - 𝐏𝐫𝐨𝐩𝐡𝐞𝐭 𝐍𝐮𝐡 - 𝐏𝐫𝐨𝐩𝐡𝐞𝐭 𝐉𝐞𝐬𝐮𝐬 - 𝐏𝐫𝐨𝐩𝐡𝐞𝐭 𝐌𝐮𝐡𝐚𝐦𝐦𝐚𝐝 [ﷺ]Prophet Isa (Jesus) “once king shaka met a fair skinned holy man, upon asking to introduce, he said, I'm Isa, born off a virgin lady. I'm here to restore the lost dignity of Mleccha region, which is why I'm known as Isa-Maseeh❞ Mind blowing parallel in Quranic aayath.
Final Prophet Muhammad, may peace & blessings be upon him. Now the real game begins. Vedas, Upanishads & puranas are filled with prophecies of a future Prophet/Avatar/Reviver or whatever that they name. These prophecies seem to fit on Rasulullah ﷺ after studying his life.In Atharva ved, 1:20:127, a chain of 14 mantras are written describing the characteristics of a saint 'Narasansha' - नरासंशा The literal meaning of the word is, The Praised one. Which is technically similar to the meaning of the word 'Muhammad' - محمد'
In the first mantra, he is referred to as Kaurama (कौरम) Which means 'Emigrant'. Someone who has left his place and made a migration. Rasulullah ﷺ had indeed Migrated from Makka to Madina city during his life when Mushrikeen of Arab started persecuting him.
Further in the second verse of the same mantra, it's said that this Rishi rides camel. What's interesting is, according to Manu Smriti it is forbidden to ride Camel. Then how come such a revered saint is known to ride camels. What is the possible explanation
Another remarkable prophecy is of, Kalki Avatar in the Hindu texts. This is a future prophecy that such an Avatar is going to be born when evil spreads in the land. But the features of this Kalki Avatar in no way find a fulfillment for any saint/rishi in India.
Kalki puran :2:4 His place of birth will be - Sambhala His Mother - Sumati His father - Vishnuyash Date of birth - 12th of Vaisakha
In B. Purana there's a story of a king raja bhoj who meets 'Mohammad' (literally this name) and his companions, their specifics are: - they are circumcised (khatna) - they don't have hair tuft (choti) - they're bearded - they call in loud voices (azan) - eat meat - desert people
One interesting thing is, bhavishya purana refers to these people as 'Musalman'. But musalman is not even an arabic word. And it had come into existence only after Islam spread out of arab. But hindus say their scriptures are ancient; then the word 'musalman' is ancient too?
As for monotheism in hindu texts, it'd require altogether a new thread to compile the references. They are in hundreds. And they're in every sacred text, be it vedas, Puranas, Upanishads, Gita. It's now up to Hindus to tell if hinduism is a monotheistic faith or polytheistic.
References regarding oneness of are many, hence I tried to get reference from vedas where negation of multiple gods is mentioned. Because the fundamental pillar of Islam is acceptance of 'THERE IS NO GOD, but Allah'. So Islam first negates the possibility of other gods
Sacred texts are filled with negation of Idol worship too. 'gods made out of earth and stones are NOT REAL GODS' -Srimad Bhagvat Purana.
If there's no image of God, no body structure, then how come all of India is filled with millions of god's portraits? Thanks to a painter, Raja ravi verma who actually gave faces to gods. Funny isn't it. A painter drew some faces and one billion people think the face is god's.
Now it's upon Hindus to refute all of this. It's an impossible task. But give it a try. And keep in mind the basics - these books are authority for you, not for us. So anything mentioned in these books can very much be used against you but not against us The Muslims.
As for us, our premise is clear. We don't accept everything mentioned in your books but we do say that there may be some truth in these books based on the assumption that there indeed have been prophets sent to India. Which then implies that their teachings have been corrupted.
Hence, I politely call on my fellow brethren to realise the disrespect that they're doing to their own faith by indulging in polytheism, idol worship and other such sins. Islam is always open to anybody and everybody. It's simple. It's easy and it's the solution. Ghar wapsi!!!































