Powered By Blogger

Wednesday, October 18, 2023

The History of Jews(Israelis)



یہودیوں کی تاریخ :

اسلام اور یہودیت میں بہت خاص اور گہرا رشتہ ہے وہ اسلیے کے دونوں کے جدِامجد یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی ہیں اور دونوں ہی مذاہب عقیدہ توحید پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور قران یہودیوں کو اہل کتاب کا خطاب بھی دیتا ہے۔

تورات کا تعارف:

یہودیت میں کئی فقہ شامل ہیں اور سب اسی بات پر متفق ہیں کہ دین کی بنیادبےشک موسی علیہ السلام نے رکھی ہو مگردین کا دارومدار تورات اور تلمود کے مطالعہ پر ہےنہ کہ کسی ایک شخص کی پیروی کرنے میں۔
تورات یہودیت میں سب سے مقدس کتاب مانی جاتی ہے اور یہ قدیم عبرانی زبان میں ہے اسکے پانچ حصے ہیں جنہیں موسی علیہ السلام کی پانچ کتابیں بھی کہا جاتا ہے

1- GENESIS پیدائیش
2- EXODUS خروج
3- LEVITICUS احبار
4- NUMBERS نمبرز
5- DEUTERONOMY استشنا

تورات کا پہلا چیپٹر تخلیقِ کائینات اور تخلیقِ آدم وحواسے شروع ہوتا ہے ہوا طوفانِ نوح اورپھیر حضرتِ ابرہیم علیہ السلام تک انکی شادی اور بیٹوں تک پہنچ جاتا ہے اور یہ بیان کرنے کا مقصد ہے کہ اسرائیل کے خدا نے ابراہیم سے ایک وعدہ یا معاہدہ کرا تھا کہ اگر تم میری عبادت اور پیروی کرو گے تو میں تمہاری نسل سے بڑی بڑی قومیں پیدا کروں گا۔

تورات کی ان پانچ کتابوں میںتقریبا 613 احکامات درج ہیں جو معاشرے، اخلاقیات، شرع اور قوانین سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے 10 احکامات بہت مشہور ہیں۔

تلمود کا تعارف:

عبرانی زبان میں تورات کے مطلب ہیں سبق کے اور جس زمانے میں بیت القدس پر روم کی حکومت تھی اور بنی اسرائیل کو صرف اپنے معبد تک آنےکی اجازت تھی اس زمانے کے علما اپنا زیادہ وقت شرعی اور فقہی غور و فکر میں گزارتے سن 586 قبل مسیح میں بابل حکمرانوں نے ہیکل کو تباہ کردیا اور موسوی امت بکھر گئی اور اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ سن 200 قبل مسیح اور سن 200 عیسوی کے درمیان ایک مصحف جمع ہوا جس میں یہودیوں کے سب نامور علما‌کی تفسیریں درج تھی اس کا نام مشناہ تھا جسکے معنی روایات جو دہرائی گئی اور موجودہ تلمود اسی سے اخذ کر کے بنایئ گئی ہے۔

بنی اسرائیل وجہ تسمیہ:
 
اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا اور انکے بیٹے تھے حضرتِ یوسف علیہ السلام جو بعد میں مصر کے بادشاہ بنے اور بنی اسرائیل میں ہی داؤد علیہ السلام پیدا ہوئے، جب داؤد علیہ السلام نے جالوت کو شکست دی تو اس وقت فلسطین کے بادشاہ صول نے حسبِ وعدہ اپنی بیٹی کی شادی داؤد علیہ السلام سے کر دی اور پھر صول کے مرنے کے بعد داؤد علیہ السام فلسطین کے بادشاہ بنے اور داؤد علیہ السام کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے اللہ تعالی نے ہر قسم کے جانور اور جن حضرتِ سلیمان علیہ السلام کے تابع کرے تھے آپ نے 922 قبل مسیح سے لیکر 961 قبل مسیح تک جنوں کی مدد سے اسی جگہ مسجد اقصی تعمیر کروائی جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کروائی تھی۔

586 قبل مسیح اور Babylons کے ہاتھوں ہیکل کی پہلی تباہی:

 پہلی مرتبہ 586 قبل مسیح میں بابل کے
لوگوں نے اپنی حکومت قائم کر کے ہیکل کی عبادت گاہ مسمار کر دی اور بنی اسرائیل کو وہاں سے نکال کر غلام بنا لیا۔ اس دوران اصل تورات بھی حملے میں ضایع ہو گئی اور انکے علما نے اپنے حافظے سے ریسرچ کر کے ایک کتاب بنائی جسکو تلمود کہا جاتا ہے اسکے
بھی دو ورژن ہیں اور موجودہ یہودیت اسی کے گرد گھومتی ہے۔ اسکے 100 سال بعد ایک بار پھر بنی اسرائیل کی واپسی فلسطین میں ہوئی اورانہوں نے پھر سے اپنی عبادت گاہ تعمیر کرائی مگر ٹھیک اس جگہ نہی جہاں سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروائی تھی اور333 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے پھر سے بنی اسرائیل کو وہاں سے نکال کر اسکو یونان میں شامل کر لیا۔ کم و بیش 100 سال بعد 165 قبل مسیح میں بنی اسرائیل نے یہودی سلطنتکی بنیاد رکھی اور پھر 100 سال یہ اس حکومت کو چلا سکے اور پھر سے روم کے قبضے میں چلے گئے۔

بغاوت، ٹائٹس رومی اور دوسری مرتبہ ہیکل کی تباہی:

حضرت عیسہ علیہ السلام کے رفع سماوی کے 37 سال بعد 70 عیسوی میں یہودیوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت کری جسے ٹائٹس رومی نے کچل دیا اورانکو فلسطین سے نکال کرے انکی عبادت گاہ کو گرا دیا ۔ ٹائٹس رومی کے حملے میں ایک دن میں 133،000 یہودی صرف یروشلم میں مارے گئے اور پھر سے ہیکل سلیمانی دوسری مرتبہ گرا دیا گیا اور یہ ہیکل آج کی تاریخ تک گرا ہوا ہے۔ جب ٹائٹس رومی نے انکو یروشلم سے نکالا تو یہ پوری دنیا میں پھیل گئے 3 قبیلے مدینے میں آباد ہو گئے جس میں بنو قینقع، بنو نظیر، بنو قر یظہ اور کچھہ یورپ چلے گئے۔ سن 70 عیسوی سے لیکر 1917 تک کے دور کو یہود دور انتشار diaspora مانتے ہیں کے جس میں انکو انکے اصل وطن سے نکال دیا گیا۔ 

بازنطینی اور حضرت عمر کا معاہدہ: 
636 عیسویمیں اپنے مزہبی پیشوا سے مشورہ کر کے باظنتینیوں نے فلسطین حضرت عمر کے حوالے کر دیا اور 639 عیسوی میں حضرت عمر نے اسی جگہ مسجد اقصی کی دوبارہ تعمیر کروائی جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے کروائی تھی سن 636 عیسوی سے لیکر 1918 تک فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت رہی اس میں کچھ عرصے صلیبی جنگوں کے دوران مسلمانوں کے پاس سے اسکی حکومت گئی بھی ہے۔ 

 آخر ایسی کونسی وجہ ہے جو ہر بار انکو فلسطین سے نکالا جاتا ہے۔
انکے وہ کونسے کرتوت ہیں، انکی عیسایوں اور مسلمانوں سے کیا دشمنی ہے کیسے انہیوں نے سود کو رائیج کرا کیسے عیسایوں کو اپنا اعلی کار بنایا۔

اسلام دشمنی اور اسکی وجوہات۔

قران کریم میں یہودیوں کی سنگین بد اعمالیوں کا ذکر کثرت سے موجود ہے اور  بعض آیات میں تو انکی دائمی اسلام دشمنی کا ذکر بھی تفصیلا کرا گیا ہے۔

یہاں اس بات سے پہلے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ وہ کیا وجہ تھی جسکی بنا پر یہود نبی آخرزماں کے انکاری ہو گئے۔

پہلی وجہ: 

ایک بات تو یہ جان لیں کہ اسلام آنے سے پہلےسے پہلے یہود اور نصاری یہ دونوں ہی آخری رسول کی آمد کا انتظار کر تھے مگر جیسے ہی رسول اللہ کا دعوی نبوت ان تک پہنچا تو بھڑک اٹھے کہ نبی تو سارے بنی اسرائیل میں آتےہیں یعنی کے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں حضرت ٰٰٰٰیعقوب علیہ السلام کی نسل میں سے تو یہ نبی کیسے بنی اسماعیل میں آ گیا یہ تو وہ پہلی وجہ تھی جہاں یہود کی آنکھیں کھلی کے نبوت بنی اسرائیل کے پاس سے چلی گئی۔ یعنی کے ٹرانسفر ہو گئی ابراہیم علیہ السلام کی دوسری نسل یعنی کے اسماعیل علیہ السلام کیطرف۔

دوسری وجہ

اسلام آنے سے پہلے یہودی عرب میں 3 جگہ آباد تھے ، خیر، مدینہ اور وادی القری اور معیشت انکے قبضے میں تھی کیونکہ ذراعت، تجارت اور صنعت سے عرب ذرا لاتعلق ہی رہے اسی وجہ سے یہ سب کام یہودہی ہی کیا کرتے تھے ہاں سیاست یہود کی دوری ضرور برقرار تھی اسکہ وجہ عرب کا قابئیلی نظام تھا اسی وجہ سے معیشت اور تعلیم پر انکا عرب میں اچھا خاصہ رسوخ تھا۔

تو جسوقت میثاقِ مدینہ کے ذریعے رسول اللہ پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی مدینہ میں تو عدل و انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی بنا پر یہودیوں سے بھی معاملات طے فرمائے کہ وہ بھی وہاں کے رہائیشی ہیں، لیکن انکی مسلسل عہد شکنیوں سے تنگ آ کر بلآخر رسول آللہ نے انکو مدینہ سے نکالا۔ 
یہ بھی زندگی رہی تو بیان کروں گا کے وہ کونسی وجوہات تھی جو یہود ریاستِ مدینہ سے نکالا گیا۔ ورنہ یہاں ہم موضع سے ہٹ جائیں گے۔ 
یاد رکھیں یہ ذلت یہودی آج تک نہی بھولے اور 1948 میں بن گوریان نے یہ برملا اعلان کرا کہ "یہودی مسلمانوں کو ان علاقوں سے نکال دیں گے جہاں سے انہوں نے یہود کو نکالا"
ِ
شہادتِ عثمان ہو، بنو امیہ و بنو عباسیہ کا ذوال ہو خواہ  ہسپانیہ میں امارات اسلامی کا خاتمہ ہو یا پھر خلافت عثمانی کا دردناک انجام آپکو ہر جگہ یہودی سازش کے تانے بانے ہی نظر آیئں گے۔

اب آتے ہیں ان آیاتِ قرانی کی طرف جنکا ذکر میں نے اوپر کرا ہے۔

1- لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ

” یقیناً آپ ایمان داروں کے ساتھ سب لوگوں سےزیادہ عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائیں گے جو شرک کرتے ہیں۔ (المائدہ آیت نمبر 82)

2- وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ

"آپ سے یہودی اور نصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں"

3- يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ

” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا تو یقیناً وہ انہی میں سے ہوگا۔

یہود کی اسلام دشمنی کا یہ حال تھا کہ خود پیغمبر اسلام کو تین دفعہ ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اللہ نے آپ کو ان کے شر سے بچا لیا۔ 

1- ایک دفعہ نہایت سخت قسم کا جادو کر کے، 
2- دوسری بار زہریلی بکری کو کھلا کر اور 
3- تیسری بار چھت کے اوپر سے آپ پر ایک بھاری پتھر گرا کر جبکہ آپ نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔
یہود کی وجہ تسمیہ:

پچھلی پوسٹ میں ہم نے لفظ اسرائیل کے وجہ تسمیہ بیان کری تھی اور اب دیکھے کے لفظ "یہود" کہاں سے آیا ہے۔

"اسرائیل" یہود یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ نام ہیں اللہ کی ٹرف سے عطا کیا گیا ہے۔ "اسرائیؒ" کے لسفظی معنی "خدا سے کشتی کرنے والا" ہے یہ معدنی یہدیون کی کتاب مقدس The Holy Sepulchre کے جدید ترجمہے میں بتایا گیا ہے جو کہ Jews publication society of US نے 1945 میں شائع کرا۔ اس نام کا ذکر کتاب مقدس Genesis کے Chapeter number 45 verse number 25-29 مین آیا ہے۔ عیسائیوں کی مترجم بائیبل میں بھی یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ یہودی ترجمہ کے ضاشیئے مین "اسرائیل" کے معنی یوں لکھے گئے ہیں کہ "He who striveth with God" یعنی "وہ جو خدا سے زور آزمائی کرے" Bibilcal litrature میں عیسائی علما نے اسرائیل کے معنی Wrestller with God" یعنی خدا سے کشتی کرنے والا لکھے ہیں۔

اب ہیں نہ یہ عجیب و غریب باتیں یہودی روایات کے مطابق "حضرتِ یعقوب سے خدا نے رات بھر کشتی لڑی جو صبح تک جاری رہی اور خدا پھر بھی اسے نہ پچھاڑ سکا۔ جب صبح ہوئی تو خدا نے ان سے کہا "اب مجھے جانے دو" تو انہوں نے کہا میں تجھے اسوقت تک نہ جانے دون گا جب تک تو مجھے برکت نہ دے۔
خدا نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں جواب دیا یعقوب تو خدا نے فرمایا آیندہ تیرا نام یعقوب نہی اسرائیل ہوگا" (بایبل، باب، ہوسیع) 

اب سوچیے وہ کیسا خدا تھا جو اپنے بنائے ہوئے سے شکست کھا جاتا ہے پھر اس سے اسی کا نام پوچھتا ہے یعنی اس حد تک تحریفات کری ہیں کے الھامی کتاب کا حشر ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔

فلسطین پر یہودیوںکا دعوی:

آج 2000 سال بعد وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ انکو اس سرزمین سے نکالا گیا تھا اگر اس دعوے کو مان لیا جائے تو پھر امریکہ ریڈ انڈینز کو دے دینا چاہیے ، آسٹریلیا ابارجنز کو اور کم و بیش 400 سال تاک مکہ و مدینہ عثمانیوں کے پاس رہے وہ بھی غیر عرب کہلایئں گے۔

جب رسول اکرم ﷺ کو زہر دیا گیا:

جنگ خیبر کے وقت ایک یہودی عورت زینب بنت الحرث نے رسول اللہ کی دعوت کری جیسے آپ نے قبول فرمایا، اس نے ایک دنبہ ذبح کرا اور بھوننے سے پہلے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ کونسا حصہ پسند فرمائیں گے آپ نے جواب دیا مجھے دستی کا گوشت زیا دہ پسند ہے چنانحچہ اس نے پورے دنبے پر زہر ڈالا خصوسا دستی کو زہر آلود کرا۔ دسترخوان پر بیٹھ کر آپ نے ایک لقمہ منھہ میں ڈالا للیکن اسے نگلا نہیں اور فرمایا یہ گوشت مجھ سے کہتا ہے کہ اسے زہر آلود کیا گیا ہے۔ آپ غور کریں یہ لوگ کتنے شر انگیز اور بزدل ہیں کہ اپنے جگی کام بھی ایک عورت کے ذریعے کرواتے ہیں۔
صلیبی جنگوں کے دوران ٰیہودیوں کے سازش:

صلیبی جنگوں کے دوران یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک کو نکالنے کی ایک ناپاک سازش کری یا وہ کوئی ایسی حرکت کرنا چاہتے تھے کہ جس سے مسلمانوں کے دلوں کو کوئی ٹھیس پہنچے۔ نورالدین زنگی کا دور تھا مسلمان فوج جرمنی کے شہنشاہ کانرڈ کی 9 لاکھ فوج کے خلاف یروشلم میں نبرد آزما تھی کہ دو مسکین صورت باریش آدمی مدینے کے نواح میں وارد ہوئے اسکے وضع قطع دیکھ کر کسی شک و شبہ نہی ہو سکتا تھا کہ عبادت و ریاضت کے سوا بھی انکا کوئی مقصد ہے۔ دن بھر یہ لوگ ذکر اللہ کرتے اور راتوں میں سرنگ کھودتے تاکہ روضہ اطہر تک پہنچ سکیں یہاں تک کے انکی سرنگ روزہ مبارک کے بلکل قریب پہنچ گئی۔ ایک رات نور الدین زنگی نے خواب میں رسول ﷺ کی بشارت دیکھی وہ بہت پریشان ہوا دوسرا دن بھی پریشانی میں گزرا اور تیسرے دن پھر وہ خواب اس نے دیکھا جس میں رسول اللہ نے ان سے سختی کے ساتھ عمل کرنے کا تقاضہ کرا۔ وہ فورا مدینے پہنچے اور شہر کا جآئزہ لیا ہر چیز معمول پر تھی آپ ﷺ نورالدین زنگی کو انکی شکلیں بھی ذہن نشین کروا دی تھی۔ پورے شہر کی دعوت رکھی مگر وہ شکل کہیں نظر نہی آئی مزید استسفار کرنے پر پتا چلا دو عابد و زاہد افرا شامل نہ ہو سکے اور انہیں کوئی دعوت عبادت سے روک نہی سکتی سلطان کہا کیا شان ہے ہم خود انکی زیارت کریں گےاور سپاہ کو لیکر ان دونوں تک پہنچے اور انکی شکلیں پہچان کر جب تلاشی کروائی تو انکے مصلے کے نیچے سے سرنگ کا دروازہ برامد ہوا۔ سلطان نے ان دونوں کو سزائے موت دیکر روزے کے گرد دھاتی دیوار تعمیر کروا دی۔ آپ اس واقعے سے انکی پست ذہنی کا اندازہ کریں۔

جاری --


الحمدللہ

اگر آپ کو پیاس لگے اور دس منٹ کے اندر اندر تازہ یا فریج کے پانی کا گلاس آپ کو مل سکتا ہے تو پھر سب سے پہلے الحمد للہ کہیں۔ ۔ ۔ الحمدللہ کہیں...